دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ٹویٹر اب مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے ایک بن چکا ھے۔ عام اندازہ ھے کہ فیس بک کی نسبت قدرے سنجیدہ اور ذھین لوگ ٹویٹر کو استعمال کرتے ھیں۔ میں نے ذاتی طور پر ٹویٹر اپنا غبارِ دلی نکالنے کیلیۓ جوایئن کیا تھا اور کم و بیش یہی مقصد آج 6 سال بعد بھی میرے پیش نظر ھوتا ھے۔میرا اندازہ ھے کہ پاکستانی ٹویٹر کے صارفین کی اکثریت کا تعلق ملک کی کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی سوشل میڈیا ٹیم سے ھے۔کئ استعمال کنندہ ایسے ھیں جو ٹویٹر پر محبت اور فلرٹیشن کا کھیل کھیلنے آتے ھیں۔ یہاں اکثر یوزرز اپنی ٹویٹس کو ملنے والی لایئکس اور ری ٹویٹس کی صورت میں ملنے والی پسندیدگی سے دلی تسکین محسوس کرتے ھیں۔اسی بنا پر کئ مرد ٹویپس کو جب ایسی پسندیدگی نہیں ملتی یا نہ ھونے کے برابر ملتی ھے تو پھر وہ"انتہائ اقدام" پر اُتر آتے ھیں۔ یہ انتہائ اقدام کیا ھوتا ھے؟ کسی لڑکی کے نام پر اکاؤنٹ بنا لینا، مزے کی بات یہ ھے کہ یہ طریقہ واردات بہت کامیاب بھی رھتا ھے کیونکہ کوئ لڑکی اگر بے حد احمقانہ بات بھی کر دے تو لایئکس اور ری ٹویٹس کا تانتا بندھ جاتا ھے اور ٹویٹر کی فضاۓ بسیط واہ واہ، سبحان اللہ کے تبصروں سے گونج اٹھتی ھے۔ ایسی پزیرائ جہاں کچھ لڑکیوں اور خواتین کواپنی "خداداد ذھانت اور قابلیت" کے انوکھے سرور میں مبتلا کر دیتی ھے وھیں "ماما کی زندگی" اور "پاپا کی پری" والے اکاؤنٹ کے پیچھے چھپے محمد بنارس کو بھی ایک کمینی سی تسکین سے سرشار کر دیتی ھے۔ جہاں تک خواتین یا لڑکیوں کے اصل اکاؤنٹس کا تعلق ھے تو کچھ اکاؤنٹس پر ڈسپلے پکچر ایک نازک اندام سراپے، جھیل جیسی آنکھوں، صبیح و ملیح چہرے، شہابی رنگت اور دراز، سلکی بالوں کا پتا دیتی ھیں جبکہ حقیقت یہ ھوتی ھے کہ ایسےاکاؤنٹس کے پیچھے خرانٹ، فربہ اور کرخت چہرے والی پکی عمر کی نسرین بی بی اور شہناز خاتون جیسی گھریلو خواتین ھوتی ھیں جنکے ھاتھ برتن مانجھ مانجھ کر اور مسلسل پوچا لگانےسےبھدے اور سخت ھو چکے ھوتے ھیں اور اپنے منحنی و پستہ قامت خاوندوں کو وقت بے وقت جھانپڑ اور دھپے لگانے کیلیۓ موزوں ترین ھو چکے ھوتے ھیں۔(خوبصورت، نازک اندام خواتین و لڑکیوں سے معذرت کے ساتھ")۔مرد حضرات کی کیفیت بھی کچھ مختلف نہیں،وجیہہ وشکیل تصویریں ڈسپلے پر لگانے والے بعض صاحبان دیکھنے میں امانت چن اور امان اللہ سے رنگ و نقوش میں کافی مماثلت رکھتے ھیں۔تعارف میں تو وہ ڈاکٹر، انجینیئر اور بزنس مین ھوتے ھین جبکہ درحقیقت دفتر میں کلرکی کرتے اور باس کی جھاڑیں کھا کھا کر وہ ھنچ بیک آف نوٹرے ڈیم کی مانند ھو چکے ھوۓ ھوتے ھیں۔ ان میں سے کچھ سبزی، فروٹ کے ٹھیلے لگاتے ھوۓ بھی پاۓ جاتے ھیں۔ اگلے دن ایسا ھی ایک "بزنس مین" بڑی اکتاھٹ سے پوچھ رھا تھا کہ عمر میری تو محض 23 سال ھے البتہ اس کچی عمر میں ھی میں کروڑ پتی بن چکا ھوں اور میرے پاس کوئ 3 کروڑ روپے فالتو پڑے ھوۓ ھیں، سمجھ نہیں آتا کہ اس پیسے کا کیا کروں۔ موصوف کی ٹویٹ پر کیۓ جانے والے تبصرے دیکھنے لایئق تھے۔ بہرطور "3 کروڑ" کی برکت سے چند گھنٹوں کے اندر ھی تقریبًا 6،7 "کامنی سی" دوشیزایئں اسکے ڈی ایم کی رونق بن چکی تھیں۔ یہ معلوم نہیں کہ ان کامنی اور نازک اندام دوشیزاؤں میں اصل کتنی تھیں اور پوچا لگانے والی نسرین بی بی یا "پاپا کی پری" والے محمد بنارس کتنے تھے۔ سیاسی سوشل میڈیا گروپس کی طرح پاکستانی ٹویٹر پر اب ایسے لوگوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رھی ھے جو مخصوص مذھبی ایجنڈا رکھتے ھیں۔ ان لوگوں کا مقصد جھوٹ، تحریف اور تاریخ کے غلط حوالے دے کر نوجوان نسل کو گمراہ کرنا ھے۔ جہانتک سیاسی جماعتوں کی سوشل میڈیا ٹیمز کا تعلق ھے تو ایسی روش بھی دیکھنے میں آتی ھے کہ ایک شخص نے کئ اکاؤنٹس بناۓ ھوتے ھیں۔ یہ حرکت ھیش ٹیگز اور ٹرینڈ بنانے میں خاصی کام آتی ھے۔ اس حوالے سے معروف مثال " ماموں کے بیٹے کامران" کی ھے جس کی تفصیل سے آپ سب بخوبی واقف ھیں۔ بلاگ خاصا طویل ھوتا جا رھا ھے اور مجھے علم ھے کہ آپ اسے پڑھتے ھوۓ اب پہلو بدلنا شروع ھو گۓ ھیں نیز جمایئوں کا بھی تانتا بندھ چکا ھے، لہٰذا "پاکستانی ٹویٹر" پر بلاگ کا یہ پہلا حصہ پڑھیۓ، اگر پسند آیا تو جلد ھی دوسرا حصہ بھی پیش کروں گا جس میں سکرین شاٹس اور چند سوشل میڈیا مجاھدین کا ذکر خیر ھو گا، تب تک فی امان اللہ۔۔۔
ضروری نوٹ: جو احباب مجھے اچھی طرح سے جانتے ھین ان سے التجا ھے کہ پلیز کسی اور کو یہ پتا نہ چلے کہ میں بھی سبزی منڈی میں آلو، مٹر کی ریڑھی لگاتا ھوں۔ بہت شکریہ
ضروری نوٹ: جو احباب مجھے اچھی طرح سے جانتے ھین ان سے التجا ھے کہ پلیز کسی اور کو یہ پتا نہ چلے کہ میں بھی سبزی منڈی میں آلو، مٹر کی ریڑھی لگاتا ھوں۔ بہت شکریہ
بہت ہی شاندار تجزیہ ہے
ReplyDelete